16 دسمبر 2011 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا ہے کہ خلیج فارس علاقے کے ممالک کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں ایران کی پالیسی یہ ہے کہ اس علاقے میں علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے امن و استحکام قائم ہونا چاہئے۔

ابنا: حسین امیر عبداللہیان ، جو سیاسی حکام سے بات چیت کے لئے خلیج فارس علاقے کے ممالک کے دورے پر ہیں ، کویت میں کویت کے وزیر خارجہ شیخ صباح الخالد الاحمد الصباح سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی علاقے کی ترقی و پیش رفت اور ثبات کی پالیسی ہے۔

امیر عبداللہیان نے ، جو کویت سے پہلے عمان ، متحدہ عرب امارات اور قطر کے اعلی حکام سے ملاقات کرچکے ہیں ، علاقے خاص طور سے شام ، بحرین اور یمن کے حالات کے بارے میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نزدیک ان ممالک کے مسائل کا حل علاقے کی امن و سلامتی میں مددگار ثابت ہوگا۔

انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ مذکورہ تینون ممالک میں سیاسی راہ حل اور بات چیت بہترین طریقہ ہے کہا کہ غیر سیاسی راہ حل ، فوجی اقدام اور ان ممالک میں بیرونی مداخلت کو ہم مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کے بارے میں کہا کہ سعودی عرب علاقے کا ایک اہم ملک ہے اور تہران ریاض کے مابین دو طرفہ معاملات میں کوئی مشکل اور اختلاف نظر نہیں ہے لیکن بعض علاقائي مسائل میں مختلف موقف پایا جاتا ہے اور دو جانبہ مسائل اور علاقائي تغیرات کے دائرے میں سعودی حکام کے ساتھ بات چیت کی جا رہی ہے۔

ایرانی نائب وزیرخارجہ نے بحرین میں سعودی افواج کی موجودگي کو غلط پالیسی قراردیا اور کہا کہ بحرین میں فوجی اقدام نے حالات کو پیچیدہ تر کردیا ہے جبکہ حالات معمول پر لانا اور فوج کی واپسی بحرین کے مسائل کے حل اور قومی مذاکرات کے امکان کے سلسلے میں بنیادی اقدام ہوں گے۔امیر عبداللہیان نے شام کے بارے میں کہا کہ اس سلسلے میں دو اہم باتیں ہیں۔

پہلی یہ کہ شام غاصب صہیونی ریاست سے مقابلے اور استقامت میں پیش پیش ہے اس لئے شام میں کئے جانے والے کسی بھی اقدام کے سلسلے میں اس بات کو پیش نظر رکھا جانا چاہئے کہ مظلوم فلسطینیوں کی حمایت اور استقامت کا محور کمزور نہ ہونے پائے۔دوسری اہم بات یہ کہ شام میں دہشت گردانہ کارروائياں جاری ہیں اور بھاری مقدار میں اسلحہ وہاں بھیجا گيا ہے اور ان واقعات کے پس پردہ صہیونی ریاست ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شام کے بارے میں جلدبازی نہیں کرنی چاہئے اور کوئي اقدام ایسا نہیں ہونا چاہئے جس سے صہیونی ریاست کو فائدہ پہنچے۔امیر عبداللہیان نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ علاقے کے تغیرات اور حالات نے صہیونی ریاست کو بدترین صورت حال سے دو چار کردیا ہے ، کہا کہ ایک جگہ کے لئے سلامتی و سیکورٹی کی فراہمی اور دوسری جگہ کے لئے عدم سلامتی ایک ناممکن امر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جس چیز سے علاقے کو نقصان پہنچ رہا ہے وہ اس علاقے میں غیرملکی افواج کی موجودگي ہے جبکہ ایران کا یہ موقف ہے کہ علاقے کی سیکورٹی علاقے کی فورس کے ذریعہ اور پائیدار ہونی چاہئے۔امیر عبداللہیان نے عراق سے امریکی افواج کی پسپائي کو عراق اور علاقے میں امن و سلامتی کی برقراری میں تیزی اور زیادہ سے زیادہ استحکام میں مددگار قرار دیا اور کہا کہ عراق سے امریکی افواج کی پسپائي علاقے کی امن و سلامتی کے سلسلے میں مناسب اقدام ہے۔

علاقے میں اپنے خارجہ پالیسی کے اہداف و مقاصد کے پیش نظر اسلامی جمہوریہ ایران کا یہ خیال ہے کہ مشرق وسطی اور خلیج فارس کے ممالک کے مسائل کا حل علاقے کی امن و سلامتی میں مدد گار ثابت ہوگا اور غیر سیاسی راہ حل ، فوجی اقدام اور ان ممالک کے داخلی امور میں بیرونی مداخلت سے غیر ملکی افواج کی طویل المیعاد موجودگي کی راہ ہوار ہوگي۔بنابریں اس سلسلے میں علاقائي ممالک کے درمیان سیکورٹی اور اسٹریٹیجک مذاکرات اور تبادلۂ خیال سے علاقے میں پائيدار امن و سلامتی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔....... /169